کلامِ داغردیف ے

داغؔ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہے

۱

داغ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہےتیرا اللہ نگہبان کہاں جاتا ہے

۲

پاؤں سے میرے بیابان کہاں چھٹتا ہےہاتھ سے میرے گریبان کہاں جاتا ہے

۳

غیر جاتا تھا وہاں میں نے یہ کہہ کر روکاتجھ سے کچھ جان نہ پہچان کہاں جاتا ہے

۴

ہجر کے دن کی مصیبت تو گزر جائے گیوصل کی رات کا احسان کہاں جاتا ہے

۵

روٹھ کر بزم سے اٹھا تو نہ روکا مجھ کونہ کہا اس نے کہا مان کہاں جاتا ہے

۶

بند کرتے ہو جو ہاتھوں سے تم آنکھیں میریکیا کہوں میں کہ مرا دھیان کہاں جاتا ہے

۷

داغؔ تم نے تو بڑی دھوم سے کی تیاریآج یہ عید کا سامان کہاں جاتا ہے

۱۳۵ / ۱۷۹