کلامِ داغردیف ے
تیرے کوچے میں جو ہم با دیدۂ تر بیٹھتے
۱
تیرے کوچے میں جو ہم با دیدہ تر بیٹھتےجوش طوفاں سے زمیں میں سینکڑوں گھر بیٹھتے
۲
چارہ گر بھی ہم نشیں تھا رات کو ناصح بھی تھاورنہ بیتابی سے ہم کیا جانے کیا کر بیٹھتے
۳
ہو گئی محفل تری کیا بے ادب بے قاعدہجو کھڑے رہتے تھے وہ اب ہیں برابر بیٹھتے
۴
جب کیا شکوہ کہ محفل میں رہے ہم تم سے دوراس نے جھنجھلا کر کہا کیا میرے سر پر بیٹھتے
۵
جس کی قسمت میں ہو گردش کس طرح بیٹھے کہیںہم سے آوارہ ترے کوچے میں کیوں کر بیٹھتے
۶
داغؔ تم نے کیوں کیا ہے نام وحشت کا خراباس سے تو بہتر یہی تھا چین سے گھر بیٹھتے
۱۳۶ / ۱۷۹