کلامِ داغردیف ے

تلوار تری رواں بہت ہے

۱

تلوار تری رواں بہت ہےتھوڑا بھی تو امتحاں بہت ہے

۲

کچھ آہ کے حوصلہ نکلتےنیچا مگر آسماں بہت ہے

۳

دامن پہ ترے لگی رہی خاکاتنا ہی مرا نشاں بہت ہے

۴

دل تنگ سہی پر اے تمنامر رہنے کو یہ مکاں بہت ہے

۵

اک کوہ گراں ہے عشق لیکناس کو دل ناتواں بہت ہے

۶

الفت میں نہیں ہے صبر نایابیہ چیز مگر گراں بہت ہے

۷

باطن کی خبر خدا کو ہے داغؔظاہر میں وہ مہرباں بہت ہے

۱۴۰ / ۱۷۹