کلامِ داغردیف ے

جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہے

۱

جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہےتم تلافی جو کرو اس کی ضرورت کیا ہے

۲

ایک دن مان ہی جاؤ گے ہمارا کہناتم کہے جاؤ یہی تیری حقیقت کیا ہے

۳

وعدہ وصل سے انکار ہے تو قتل کروتم سے ہم پوچھتے ہیں اس میں قباحت کیا ہے

۴

بوسہ مانگا تو کہا اس نے بدل کر چتونآپ کو یہ بھی خبر ہے مری عادت کیا ہے

۵

ہائے کیا تھا وہ زمانہ کہ تم آگاہ نہ تھےشکر کس چیز کو کہتے ہیں شکایت کیا ہے

۶

کیا کہوں کس سے کہوں دل کی حقیقت اے داغؔسب یہی پوچھتے ہیں کہئے تو حضرت کیا ہے

۱۳۹ / ۱۷۹