کلامِ داغردیف ے
خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہے
۱
خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہےآشنا سے آشنا بیگانے سے بیگانہ ہے
۲
آتے جاتے ہیں نئے ہر روز مرغ نامہ بربندہ پرور آپ کا گھر بھی کبوتر خانہ ہے
۳
فاتحہ پڑھنے کو آیا تھا مگر وہ شمع روآج میری قبر کا جو پھول ہے پروانہ ہے
۴
پائے ساقی پر گرایا جب گرایا ہے مجھےچال سے خالی کہاں یہ لغزش مستانہ ہے
۵
مجھ کو لے جا کر کہا ناصح نے ان کے روبروآپ کے سر کی قسم یہ آپ کا دیوانہ ہے
۶
داغؔ یہ ہے کوئے قاتل مان ناداں ضد نہ کراٹھ یہاں سے آ ادھر گھر بیٹھ کچھ دیوانہ ہے
۱۴۲ / ۱۷۹