کلامِ داغردیف ے
اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارے
۱
اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارےپاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارے
۲
یہ کہتے ہیں بلبل سے وہ گل ہاتھ میں لے کرتو دیکھ ملا کر اسے گالوں سے ہمارے
۳
کیا برہنہ پا دشت میں لاکھوں بھی نہ ہوں گےکانٹوں کو مگر چھیڑ ہے چھالوں سے ہمارے
۴
ہر وقت نئی دھن ہے ہمیں تازہ تصورجاؤ گے کہاں بچ کے خیالوں سے ہمارے
۵
کہتی ہیں وہ آنکھیں صف مژگاں کو بڑھا کرہے کون جو روکش ہو رسالوں سے ہمارے
۶
اے داغؔ فلک دشمن ارباب ہنر ہےظالم کو خبر ہو نہ کمالوں سے ہمارے
۱۴۳ / ۱۷۹