کلامِ داغردیف ے

ذکر میرا اگر آ جاتا ہے

۱

ذکر میرا اگر آ جاتا ہےسن کے وہ صاف اڑا جاتا ہے

۲

غم ترا حصہ ہے میرا لیکندل چرا کر اسے کھا جاتا ہے

۳

کیا نزاکت ہے کہ آپ آئنہ میںعکس کے ساتھ کھنچا جاتا ہے

۴

ناز سے کھینچ نہ مجھ پر تلوارغیر مشتاق ہوا جاتا ہے

۵

حسرتیں دل کی مٹی جاتی ہیںقافلہ ہے کہ لٹا جاتا ہے

۶

راہ میں گر نہ پڑے خط یا ربنامہ بر مثل ہوا جاتا ہے

۷

داغؔ کو دیکھ کے بولے یہ شخصآپ ہی آپ جلا جاتا ہے

۱۵۳ / ۱۷۹