کلامِ داغردیف ے
دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائے
۱
دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائےدو ہی جھٹکے جو ذرا زلف دوتا نے پائے
۲
ہاتھ پائی ہوئی میخانے میں زاہد سے کہیںہم نے تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے پائے
۳
چھیڑ منظور نہ ہو تجھ کو تو مژگاں تیریدل بے تاب کو انگلی نہ لگانے پائے
۴
جل گیا کیا مری آتش قدمی سے جنگلچار تنکے نہ کہیں باد صبا نے پائے
۵
ہم نے اپنا دل گم گشتہ نہ پایہ کھو کرورنہ یاں ڈھونڈھنے والوں نے خزانے پائے
۶
لا شب وعدہ اسے کھینچ کے اے جذبہ دلحیلہ جو پاؤں میں منہدی نہ لگانے پائے
۷
حور کے واسطے زاہد نے عبادت کی ہےسیر تو جب ہے کہ جنت میں نہ جانے پائے
۱۵۲ / ۱۷۹