کلامِ داغردیف ے

پیامی کامیاب آئے نہ آئے

۱

پیامی کامیاب آئے نہ آئےخدا جانے جواب آئے نہ آئے

۲

ترے غمزوں کو اپنے کام سے کامکسی کے دل کو تاب آئے نہ آئے

۳

اسے شرمائیں گے ذکر عدو پریہ قسمت ہے حجاب آئے نہ آئے

۴

تم آؤ جب سوار تو سن نازقیامت ہم رکاب آئے نہ آئے

۵

شمار اپنی خطاؤں کا بتا دوںتمہیں شاید حساب آئے نہ آئے

۶

نئے خنجر سے مجھ کو ذبح کیجےپھر ایسی آب و تاب آئے نہ آئے

۷

شب وصل عدو تیری بلا سےکسی مضطر کو خواب آئے نہ آئے

۸

پیوں گا آج ساقی سیر ہو کرمیسر پھر شراب آئے نہ آئے

۹

یہ جا کر پوچھ آ تو ان سے درباںکہ وہ خانہ خراب آئے نہ آئے

۱۰

نہ دیکھو داغؔ کا دیوان دیکھوسمجھ میں یہ کتاب آئے نہ آئے

۱۵۶ / ۱۷۹