کلامِ داغردیف ے
نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہے
نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہےتو بجلی تھرتھرا کر گر پڑی ہے
اسے بھی مجھ کو بھی ضد آ پڑی ہےخرابی بیچ والوں کی بڑی ہے
قیامت میں قیامت کر گیا کونکہ دل تھامے صف محشر کھڑی ہے
کریں کیا رند توبہ مے سے زاہدکہ یہ تو ان کی گھٹی میں پڑی ہے
قدم جمتا نہیں تیری گلی میںکسی بیتاب کی میت گڑی ہے
عدو بھی تنگ ہے ان کے ستم سےاسے اپنی مجھے اپنی پڑی ہے
ابھی میں نے کیا تھا یاد اس کووہ آیا عمر قاصد کی بڑی ہے
بنا ہے مدعی پیغام بر بھیجڑی ہے جب مری کھوٹی جڑی ہے
کیا ہے میں نے ضبط آہ جس دمانی برچھی کی سینے میں گڑی ہے
گل بستر ستارے بن گئے ہیںترے ماتھے سے جب افشاں جھڑی ہے
یہ کہتا ہے مرا شوق شہادتتری تلوار پھولوں کی چھڑی ہے
وہ روٹھیں غیر سے تو ہم منائیںپرائی آفت اپنے سر پڑی ہے
تجھے دیتا ہوں اپنی جان بھی میںمرے دل سے مری ہمت بڑی ہے
ٹلیں وہ کب جو دل لینے پہ اڑ جائیںیہ کیا کچھ کھیل چوسر کی اڑی ہے
الٰہی کب سحر ہوگی شب ہجرقیامت کی گھڑی ہے جو گھڑی ہے
بگڑ کر ہم نے سو الزام پائےاب ان کی ہر طرح سے بن پڑی ہے
غزل اک اور بھی اے داغؔ لکھوطبیعت اس زمیں میں کچھ لڑی ہے
۱۵۷ / ۱۷۹