کلامِ داغردیف ے
ناروا کہئے ناسزا کہئے
ناروا کہئے ناسزا کہئےکہئے کہئے مجھے برا کہئے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئےایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے
درد دل کا نہ کہئے یا کہئےجب وہ پوچھے مزاج کیا کہئے
پھر نہ رکئے جو مدعا کہئےایک کے بعد دوسرا کہئے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیںیہ نہ کہئے کہ مدعا کہئے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیںمانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہئے
دل میں رکھنے کی بات ہے غم عشقاس کو ہرگز نہ برملا کہئے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نےکہنے والوں کو اور کیا کہئے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھیحال دل سب سے جا بجا کہئے
مجھ کو کہئے برا نہ غیر کے ساتھجو ہو کہنا جدا جدا کہئے
انتہا عشق کی خدا جانےدم آخر کو ابتدا کہئے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلبآپ اپنا تو مدعا کہئے
ایسی کشتی کا ڈوبنا اچھاکہ جو دشمن کو ناخدا کہئے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہےپر اسے دیر آشنا کہئے
آ گئی آپ کو مسیحائیمرنے والوں کو مرحبا کہئے
آپ کا خیر خواہ میرے سواہے کوئی اور دوسرا کہئے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پرمجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہئے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کےداغؔ کو اور باوفا کہئے
۱۵۸ / ۱۷۹