کلامِ داغردیف ے

محبت کا اثر جاتا کہاں ہے

۱

محبت کا اثر جاتا کہاں ہےہمارا درد سر جاتا کہاں ہے

۲

دل بیتاب سینے سے نکل کرچلا ہے تو کدھر جاتا کہاں ہے

۳

عدم کہتے ہیں اس کوچے کو اے دلادھر آ بے خبر جاتا کہاں ہے

۴

کہوں کس منہ سے میں تیرے دہن ہےجو ہوتا تو کدھر جاتا کہاں ہے

۵

ترے جاتے ہی مر جاؤں گا ظالممجھے تو چھوڑ کر جاتا کہاں ہے

۶

ہمارے ہاتھ سے دامن بچا کرارے بیداد گر جاتا کہاں ہے

۷

تری چوری ہی سب میری نظر میںچرا کر تو نظر جاتا کہاں ہے

۸

اگرچہ پا شکستہ ہم ہیں اے داغؔمگر قصد سفر جاتا کہاں ہے

۱۶۰ / ۱۷۹