کلامِ داغردیف ے
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہےمری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میںکوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
پس پردہ بھی لیلیٰ ہاتھ رکھ لیتی ہے آنکھوں پرغبار ناتوان قیس جب محمل سے ملتا ہے
بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبیملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے
مجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقت ذبح اس سے بھیگلا جس دم لپٹ کر خنجر قاتل سے ملتا ہے
بظاہر با ادب یوں حضرت ناصح سے ملتا ہوںمرید خاص جیسے مرشد کامل سے ملتا ہے
مثال گنج قاروں اہل حاجت سے نہیں چھپتاجو ہوتا ہے سخی خود ڈھونڈ کر سائل سے ملتا ہے
جواب اس بات کا اس شوخ کو کیا دے سکے کوئیجو دل لے کر کہے کم بخت تو کس دل سے ملتا ہے
چھپائے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابیکہ ہر تار نفس اپنا رگ بسمل سے ملتا ہے
عدم کی جو حقیقت ہے وہ پوچھو اہل ہستی سےمسافر کو تو منزل کا پتا منزل سے ملتا ہے
غضب ہے داغؔ کے دل سے تمہارا دل نہیں ملتاتمہارا چاند سا چہرہ مہ کامل سے ملتا ہے
۱۶۱ / ۱۷۹