کلامِ داغردیف ے

ہوا جب سامنا اس خوب رو سے

۱

ہوا جب سامنا اس خوب رو سےاڑا ہے رنگ گل کا پہلے بو سے

۲

یہ آنکھیں تر جو رہتی ہیں لہو سےوہ گزرے عشق کے دن آبرو سے

۳

اسے کہئے شہادت نامۂ عشقاسے لکھا ہے خط اپنے لہو سے

۴

دھواں بن کر اڑی مسی کی رنگتیہ کس نے جل کے تیرے ہونٹ چوسے

۵

رقیبوں کو تمنا ہے تو باشدتمہیں مطلب پرائی آرزو سے

۶

وہ گل تکیہ مرے مرقد میں رکھنامعطر ہو جو زلف مشک بو سے

۷

نئی ضد ہے کہ دل ہم مفت لیں گےبھلا کیا فائدہ اس گفتگو سے

۸

عدو بھی تم کو چاہے اے تری شانلڑاتے ہیں ہم اپنی آرزو سے

۹

ہوا ہے تو تو شاہد باز اے دلبچاؤں تجھ کو کس کس خوب رو سے

۱۰

لگا رکھی ہے خاک اس رہ گزر کیتیمم اپنا بڑھ کر ہے وضو سے

۱۱

ہمارا دل اسے اب ڈھونڈتا ہےتھکے ہیں پاؤں جس کی جستجو سے

۱۲

خدا جانے چھلاوا تھا کہ بجلیابھی نکلا ہے کوئی روبرو سے

۱۳

ہوا ہے داغؔ آصف کا نمک خوارگزر جائے الٰہی آبرو سے

۱۷۳ / ۱۷۹