کلامِ داغردیف ے

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

۱

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہےمجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

۲

سن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیاسنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے

۳

پیغام بر کی بات پر آپس میں رنج کیامیری زبان کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے

۴

کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیےہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے

۵

جاں بر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جاںکیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے

۶

حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پرکہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے

۷

وقت خرام ناز دکھا دو جدا جدایہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے

۸

فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملےدن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے

۹

قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرحچھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے

۱۰

جور رقیب و ظلم فلک کا نہیں خیالتشویش ایک خاطر نامہرباں کی ہے

۱۱

سن کر مرا فسانۂ غم اس نے یہ کہاہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے

۱۲

دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھاخنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے

۱۳

ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبارکیا جانے گرد راہ یہ کس کارواں کی ہے

۱۴

کیونکہ نہ آتے خلد سے آدم زمین پرموزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے

۱۵

تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میںتدبیر کوئی بھی ستم ناگہاں کی ہے

۱۶

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

۱۷۲ / ۱۷۹