کلامِ داغردیف ے

ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھے

۱

ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھےجواب دینے لگی طاقت سوال مجھے

۲

کسی کے دل سے کسی کی نظر سے گرتا ہوںسنبھالنا ہے تو اے آسماں سنبھال مجھے

۳

امید بوسہ ہے پھر بھی اگرچہ یہ ہے یقیںبہت ذلیل کرے گا مرا سوال مجھے

۴

صدائے نالہ شب وصل بھی نہ دل سے گئیپکارتی تھی یہ حسرت مری نکال مجھے

۵

پلا دے بزم میں ساقی اسے شراب اتنیوہ مست ناز کہے مجھ سے تو سنبھال مجھے

۶

شکایتوں سے محبت کی اور کیا حاصلکچھ انفعال تمہیں ہو کچھ انفعال مجھے

۷

اسیر حلقہ کاکل نہ میں ہوا اے داغؔمرے خدا نے بچایا ہے بال بال مجھے

۱۷۵ / ۱۷۹