کلامِ داغردیف ے
کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سے
۱
کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سےہم جانتے ہیں کھیلتے ہو تم رقیب سے
۲
میں بد گمانیوں کا بھی ممنون ہو گیاوہ حال پوچھ لیتے ہیں میرا طبیب سے
۳
دشمن بنائے ہیں مری قسمت نے سینکڑوںچاہا ہے تجھ کو خلق نے میرے نصیب سے
۴
اے ناصح شفیق رہے کچھ تو چھیڑ چھاڑذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے
۵
مانند برق مثل ہوا صورت نگاہاکثر نکل گئے ہیں وہ میرے قریب سے
۶
پوچھو جناب داغؔ کی ہم سے شرارتیںکیا سر جھکائے بیٹھے ہیں حضرت غریب سے
۱۷۶ / ۱۷۹