کلامِ داغردیف ب

دل ناکام کے ہیں کام خراب

۱

دل ناکام کے ہیں کام خرابکر لیا عاشقی میں نام خراب

۲

اس خرابات کا یہی ہے مزہکہ رہے آدمی مدام خراب

۳

دیکھ کر جنس دل وہ کہتے ہیںکیوں کرے کوئی اپنے دام خراب

۴

ابر تر سے صبا ہی اچھی تھیمیری مٹی ہوئی تمام خراب

۵

وہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتاوہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب

۶

کیا ملا ہم کو زندگی کے سواوہ بھی دشوار ناتمام خراب

۷

واہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیںخوب رو ہو کے یہ کلام خراب

۸

چال کی رہنمائے عشق نے بھیوہ دکھایا جو تھا مقام خراب

۹

داغؔ ہے بدچلن تو ہونے دوسو میں ہوتا ہے اک غلام خراب

۳۵ / ۱۷۹