کلامِ داغردیف ب
بزم سے آخر شب ہے سفر جام شراب
۱
بزم سے آخر شب ہے سفر جام شرابشام غربت ہوئی ساقی سحر جام شراب
۲
مست و سرشار کو سرشار سنبھالے کیا خاکنہ تھمی دست سبو سے کمر جام شراب
۳
کثرت مجمع اغیار سے محروم رہانہ ہوا بزم میں مجھ تک گزر جام شراب
۴
محتسب دے گا جواب اپنے ستم کا تو کیاکل جو کوثر پہ ہوا داد گر جام شراب
۵
یہ بھی اے محتسب اس لال پری کا ہے اثراڑ کے پہنچی ہے جو تجھ تک خبر جام شراب
۶
بزم دشمن میں رہے آپ تو صوفی بن کرسرخ آنکھوں میں کہاں ہے اثر جام شراب
۷
نہیں معلوم کہ اے داغؔ ہے تو کس دھن میںنہ تلاش بت مہ وش نہ سر جام شراب
۳۴ / ۱۷۹