کلامِ داغردیف چ

غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچ

۱

غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچاے داغؔ پر زمانے سے دست سوال کھینچ

۲

نازک بہت ہے رشتہ الفت نہ ٹوٹ جائےاتنا نہ اپنے آپ کو اے مہ جمال کھینچ

۳

ہو جائے تو نہ طائر دل کی طرح اسیرصیاد اپنی سمت کو آہستہ جال کھینچ

۴

کھینچی تھی جب مصور قدرت نے دل کی شکلکہتا یہ کون تو نہ اسے بے خیال کھینچ

۵

وہ ٹھنڈے ٹھنڈے چین سے گھر کو چلے گئےلے اور آہ سرد دل پر ملال کھینچ

۶

ناصح قمار گاہ محبت میں جی نہ ہاردل کو لگا کے نفع اٹھا خوب مال کھینچ

۷

اے داغؔ جذب عشق کی دیکھیں گے اب کششکی اس کشیدہ رو نے تو ہم سے کمال کھینچ

۴۴ / ۱۷۹