کلامِ داغردیف ج
جائے آسودگی کہاں ہے آج
۱
جائے آسودگی کہاں ہے آججو زمیں کل تھی آسماں ہے آج
۲
تم وہاں تھے تو دل وہاں تھا کلتم یہاں ہو تو دل یہاں ہے آج
۳
عشق کو ابتدا میں ہم سمجھےفتنہ آخر الزماں ہے آج
۴
کل ادا دل کا حال ہو کہ نہ ہوسن لو گویا مری زباں ہے آج
۵
آرزو وصل کی شہید ہوئیماتم مرگ نوجواں ہے آج
۶
اس ہدف پر لگائیں گے وہ تیردل نشیں داغؔ کا نشاں ہے آج
۴۳ / ۱۷۹