کلامِ داغردیف ی

وصل کی آرزو کئے نہ بنی

۱

وصل کی آرزو کئے نہ بنینہ بنی جستجو کئے نہ بنی

۲

شوق نے ہم کلام کر ہی دیاان سے بے گفتگو کئے نہ بنی

۳

جب رکا خون بن گئی دم پرچاک دل کو رفو کئے نہ بنی

۴

ذلت عشق ہے وہاں عزتشکوہ آبرو کئے نہ بنی

۵

پاک ہونا ہے رند کو لازممے کشی بے وضو کئے نہ بنی

۶

قتل ٹھہرا جو شیوۂ معشوقہمیں دل کو لہو کئے نہ بنی

۷

اس کی تصویر سے بھی تھا یہ خوفداغؔ کو گفتگو کئے نہ بنی

۱۲۴ / ۱۷۹