کلامِ داغردیف ی

نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہی

۱

نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہیلو آؤ اور بات سنو وہ نہیں سہی

۲

چھوڑوں گا میں نہ ہاتھ چلے آؤ ساتھ ساتھنازک کلائی دکھتی ہے تو آستیں سہی

۳

مشق جفا کے واسطے کس کی تلاش ہےکوئی اگر نہیں ہے تو یہ کمتریں سہی

۴

اقرار کر کے گھورتے ہو کیوں مری طرفباور سہی یقین سہی دل نشیں سہی

۵

بیداد کر کے چاہتے ہو پھر جفا کی دادبہتر بجا درست صحیح آفریں سہی

۶

سجدے ہی کرتے جائیں گے ہم تیری راہ میںہے نقش پا سے عار تو نقش جبیں سہی

۷

بے دل لگی بھی داغؔ گزرنی محال ہےوہ دل نہیں سہی وہ تمنا نہیں سہی

۱۲۳ / ۱۷۹