کلامِ داغردیف ی
ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کی
۱
ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کیآئے گی اسی جان پہ آفت ہو کسی کی
۲
ہم لطف کے رتبے کو ابھی جانچ رہے ہیںدل دیں اگر ایسی ہی عنایت ہو کسی کی
۳
کیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتےمعشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی
۴
اے نامہ بر احوال غم ہجر تو لکھ دوںایسا نہ ہو میری ہی سی حالت ہو کسی کی
۵
لڑنا کبھی ملنا کبھی آنا کبھی جاناتم شوخ ہو یا شوخ طبیعت ہو کسی کی
۶
لو رہنے دو تسکیں کے لئے غیر کی تصویرشاید جو نہ ہوں میں تو ضرورت ہو کسی کی
۷
یہ داغؔ ہماری نہیں سنتا نہیں سنتاایسی بھی الہی نہ بری مت ہو کسی کی
۱۲۸ / ۱۷۹