کلامِ داغردیف ی
گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گی
۱
گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گینہ ان کے دل سے نکلے گی نہ میرے دل سے نکلے گی
۲
نہیں دشوار کچھ اپنے مکاں سے لا مکاں جاناوہیں پہنچائے گی جو راہ جس منزل سے نکلے گی
۳
مری کشتی اگر چھوٹے گی دریائے محبت میںتو سب سے پہلے بسم اللہ لب ساحل سے نکلے گی
۴
بڑی سختی سے میری جان نکلی ہے کئی دن میںیکایک لاش کیوں کر کوچۂ قاتل سے نکلے گی
۵
ترشتے ہیں قیامت کے غضب کے رات دن فقرےنئی جب بات نکلے گی تری محفل سے نکلے گی
۶
رموز عاشقی کو عاشقو تم داغؔ سے پوچھوکہ باریکی میں باریکی اسی کامل سے نکلے گی
۱۲۹ / ۱۷۹