کلامِ داغردیف د
دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بند
۱
دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بنددنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند
۲
ہم دام میں پھنستے ہی ہوئے عاشق صیادیہ اور بھی اک بند پہ مضبوط لگا بند
۳
اے حضرت دل جائیے میرا بھی خدا ہےبے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند
۴
اے محتسب اک دم سے تری کتنی جفائیںشیشے کا ہے دم بند صراحی کا گلا بند
۵
دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسوبارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند
۶
کہتے تھے ہم اے داغؔ وہ کوچہ ہے خطرناکچھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند
۴۶ / ۱۷۹