کلامِ داغردیف ر
اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیر
۱
اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیردل خوش نہ ہو تو کس کا تماشہ کہاں کی سیر
۲
اب تک تو دیکھتے رہے جوبن بہار کاآئندہ ہم کریں گے تمہاری خزاں کی سیر
۳
دنیا کے دیکھنے کے لیے آنکھ چاہیےجنت کی سیر سے ہے سوا اس مکاں کی سیر
۴
کچھ جھومتے ہیں نشے میں کچھ ہیں گرے پڑےکچھ اور ہی ہے محفل پیر مغاں کی سیر
۵
کیوں دیکھنے لگے مری چشم پر آب کودریا پہ آپ کیجیے آب رواں کی سیر
۶
کیوں آدمی کو عالم بالا کی ہو ہوسبڑھ کر نہیں زمین سے کچھ آسماں کی سیر
۷
دلی میں پھول والوں کی ہے ایک سیر داغؔبلدے میں ہم نے دیکھ لی سارے جہاں کی سیر
۴۷ / ۱۷۹