کلامِ داغردیف ف

دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرف

۱

دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرفمنہ پھیر بیٹھے بزم میں دیوار کی طرف

۲

سیل سرشک اپنے ہی گھر میں بہائیں گےکیوں جائے یہ بلا تری دیوار کی طرف

۳

بیٹھے بٹھائے آئے جو شامت تو کیا علاجدل نے کہا کہ آؤ چلیں یار کی طرف

۴

چاہی تھی داد ہم نے دل صاف کی مگرآئینہ ہو گیا ترے رخسار کی طرف

۵

تصویر کو بھی اس کی یہاں تک غرور ہےدیکھے کبھی نہ طالب دیدار کی طرف

۶

تقصیر مے فروش کی اے محتسب نہیںیہ چیز اڑ کے جاتی ہے مے خوار کی طرف

۷

دی جان کس خوشی سے تہ تیغ داغؔ نےلب پر تبسم اور نظر یار کی طرف

۵۴ / ۱۷۹