کلامِ داغردیف ف

کافر وہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرف

۱

کافر وہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرفپھر اس پہ چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف

۲

ہنگامہ رحلت دیکھیے دل کس طرف اپنا جھکےبیٹھے ہیں شیخ و برہمن ایک اس طرف ایک اس طرف

۳

زلفوں کی یہ سرگوشیاں دل پر بلائیں لائیں گیغماز ہے گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف

۴

غیروں کا مجمع اور تم پریوں کا جمگھٹ اور ہمپہلو بہ پہلو انجمن ایک اس طرف ایک اس طرف

۵

دل ایک تنہا بیچ میں آنکھیں تری سفاک دوشمشیر زن ناوک فگن ایک اس طرف ایک اس طرف

۶

میں مر گیا ہوں وصل میں راحت ہو ہر پہلو مجھےتکیے ہوں دو زیر کفن ایک اس طرف ایک اس طرف

۷

تو اور دہنے بائیں ہوں لیلی و شیریں بزم میںمیں اور قیس و کوہ کن ایک اس طرف ایک اس طرف

۸

دونوں فرشتے دوش پر کیا لکھ سکیں حالت مریآلودہ رنج و محن ایک اس طرف ایک اس طرف

۹

رخسار تیرے سیم گوں پھر اس پہ گل گونے کا رنگپھولا ہے کیا رنگ چمن ایک اس طرف ایک اس طرف

۱۰

اترا رہا ہے داغؔ کیا ہنگام گل گشت چمنرنگیں قبا گل پیرہن ایک اس طرف ایک اس طرف

۵۵ / ۱۷۹