کلامِ داغردیف گ

کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگ

۱

کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگدیکھتے ہیں بہ چشم غور اہل نظر الگ الگ

۲

راہ میں ان کو وہم تھا کوئی نہ بد گمان ہوآئے تو ساتھ ساتھ وہ مجھ سے مگر الگ الگ

۳

کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیےلائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگ

۴

میں ہوں ادھر تو وہ ادھر میں ہوں یہاں تو وہ وہاںرہتے ہیں مجھ سے دور دور آٹھ پہر الگ الگ

۵

رنج فراق یار بھی صدمۂ روزگار بھیایک دل اور اتنے غم چاہئے گھر الگ الگ

۶

ان کو یہ وہم ہے کہیں ایک سے ایک مل نہ جائیںلوگ بہت ہیں بزم میں سب ہیں مگر الگ الگ

۷

حشر کو اس نے چن لئے داغؔ گناہ گار عشقتاڑ گئی ہزار میں اس کی نظر الگ الگ

۵۹ / ۱۷۹