کلامِ داغردیف ل

مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دل

۱

مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دلدرد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دل

۲

میری طرح خدا کرے تیرا کسی پے آئے دلتو بھی جگر کو تھام کہ کہتا پھرے کے ہائےدل

۳

غنچہ سمجھ کے لے لیا چُٹکی سے یوں مسل دیاان کا تو اک کھیل تھا لُٹ گیا میرا ہائے دل

۴

روندو نہ میری قبر کو اس میں دبی ہیں حسرتیںرکھنا قدم سنبھال کر دیکھو کُچل نہ جائے دل

۵

عاشقِ نامراد کی قبر پہ تھا لکھا ہواجس کو ہو زندگی عزیز وہ نہ کہیں لگائے دل

۶

پوچھتے کیا ہو میرے غم ملتے ہیں بے وفا صنمچھوڑو بُتوں کی دوستی دیتا یہی ہے رائے دل

۶۰ / ۱۷۹