کلامِ داغردیف ہ
کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہ
۱
کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہمنظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ
۲
زاہد نے چھپایا ہے اسے گوشۂ دل میںبھاگی تھی کسی رند خرابات سے توبہ
۳
یہ فصل اگر ہوگی تو ہر روز پئیں گےہم مے سے کریں توبہ کہ برسات سے توبہ
۴
دنیا کی کوئی بات ہی اچھی نہیں زاہداس بات سے توبہ کبھی اس بات سے توبہ
۵
مسجد نہیں دربار ہے یہ پیر مغاں کادروازے کے باہر رہے اوقات سے توبہ
۶
یہ داغؔ قدح خوار کے کیا جی میں ہے آئیسنتے ہیں کئے بیٹھے ہیں وو رات سے توبہ
۱۱۳ / ۱۷۹