کلامِ داغردیف ی
اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتی
۱
اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتیبات بگڑی ہوئی نہیں بنتی
۲
وہ بنی ابتدائے الفت میںدم پہ جو وقت واپسیں بنتی
۳
آدمی سب فرشتے بن جاتےآسماں پر اگر زمیں بنتی
۴
میری صورت بنی تو خاک بنیقسمت اے صورت آفریں بنتی
۵
وعدہ کرتے ہی کیا وہ آ جاتےرات بھر زلف عنبریں بنتی
۶
کاش سنتا نہ کوئی شور و فغاںدل کی جا چشم سرمگیں بنتی
۷
تو نے ایسے بگاڑ ڈالے ہیںایک کی ایک سے نہیں بنتی
۸
نہ چمکتی جو حسن کی تقدیرکیوں تری چاند سی جبیں بنتی
۹
پارۂ جیب سے مرے اے کاشدست وحشت کی آستیں بنتی
۱۰
بزم دنیا تھی قابل جنتخوب بنتی اگر یہیں بنتی
۱۱
طبع نازک کا لطف جب تھا داغؔنازنینوں میں نازنیں بنتی
۱۱۴ / ۱۷۹