کلامِ داغردیف ک
ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایک
۱
ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایکآج محفل میں گرے مست شراب ایک پر ایک
۲
گل بازی ہے حسینوں میں مرا افسانہپھینک دیتا ہے محبت کی کتاب ایک پر ایک
۳
جوش پر ہے جو ترا حسن تو اے پردہ نشیںروز کرتا ہے غضب بند نقاب ایک پر ایک
۴
توڑ اس طرح سے اے نالۂ دل ساتوں فلککہ گریں ٹوٹ کے یہ خانہ خراب ایک پر ایک
۵
لب جو سیر کو آیا ہے جو وہ بحر جمالٹوٹا پڑتا ہے تماشے کو حباب ایک پر ایک
۶
یاد آتی ہے انہیں دم بہ دم اک بات نئیروز آتا ہے مرے خط کا جواب ایک پر ایک
۷
جب کبھی داغؔ کیا ہم نے سوال بوسہسیکڑوں اس نے دئے سخت جواب ایک پر ایک
۵۷ / ۱۷۹