کلامِ داغردیف ق

غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریق

۱

غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریقکہ زمانے کے ہیں ہزار طریق

۲

غیر کے ذکر پر نہیں موقوفجی جلانے کے ہیں ہزار طریق

۳

مہربانی کی ایک راہ تو ہوگر ستانے کے ہیں ہزار طریق

۴

دل میں آیا ہزار راہ سے غماس ٹھکانے کے ہیں ہزار طریق

۵

ان کو سو سو بہانے آتے ہیںہر بہانے کے ہیں ہزار طریق

۶

دی ہے مے اس نے غیر کو جوٹھیمنہ لگانے کے ہیں ہزار طریق

۷

داغؔ اب فاقہ مست بن بیٹھےمانگ کھانے کے ہیں ہزار طریق

۵۶ / ۱۷۹