کلامِ داغردیف ن
جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیں
۱
جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیںیہ ناکام محبت سچ تو یہ ہے کام کرتے ہیں
۲
کہیں کیا ہم پہ جو صدمہ گزرتے ہیں گزرتے ہیںلگایا جس گھڑی دل اس گھڑی کو یاد کرتے ہیں
۳
تماشہ جب سے دیکھا ہے مرے دل کے تڑپنے کاتماشہ ہے کہ وہ اپنی نظر سے آپ ڈرتے ہیں
۴
نہیں آتے نہ آئیں وہ گئے تاب و تواں جائیںتجھی پر آج ہم اے بے قراری صبر کرتے ہیں
۵
گلی کوچوں میں تم نے اشتہار عشق پھیلائےکہ اڑاڑ کر مرے مکتوب کے پرزے بکھرتے ہیں
۶
ادا بے ساختہ ان گیسوؤں کی کچھ نرالی ہےبنائے سے بگڑتے ہیں سنوارے سے بکھرتے ہیں
۷
نہ پوچھو داغؔ ہم سے انتظار یار کی صورتیہ آنکھیں جانتی ہیں خوب جو نقشے گزرتے ہیں
۸۱ / ۱۷۹