کلامِ داغردیف ن

بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیں

۱

بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیںکاش دشمن ہی چلے آئیں جو احباب نہیں

۲

تجھ کو اے بخت سیہ آگ لگا کر دیکھوںشب ہجراں میں اگر جلوہ مہتاب نہیں

۳

دیکھ بت خانے میں تصویر کا عالم اے شیخیاں مصلیٰ نہیں منبر نہیں محراب نہیں

۴

نامہ بر مجھ سے یہ کہتا ہے کہ تم تو کیا ہوبادشہ بھی تو وہاں قابل القاب نہیں

۵

نہ ملے مجھ کو مرے حال پہ رونے والےعیش کیسا کہ یہاں غم کے بھی اسباب نہیں

۶

حال دل جس سے کہا اس نے کہا بس خاموشداغؔ اس درد کے سننے کی ہمیں تاب نہیں

۸۰ / ۱۷۹