عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوںجن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

About this couplet

This is couplet 8 of 9 in “⁨عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۸ / ۹