کلامِ داغردیف ن

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں

۱

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

۲

منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیںپھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

۳

سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہینشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

۴

کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیرینہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

۵

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیںصاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

۶

مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہےتجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

۷

دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہواکون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

۸

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوںجن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

۹

زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہوجان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں

۸۳ / ۱۷۹