کلامِ داغردیف ن

شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیں

۱

شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیںیہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیں

۲

خدا جانے ہم کس کے پہلو میں ہوں گےعدم کو سب اپنے پرائے گئے ہیں

۳

وہی راہ ملتی ہے چل پھر کے ہم کوجہاں خاک میں دل ملائے گئے ہیں

۴

مرے دل کی کیونکر نہ ہو پائمالیبہت اس میں ارمان آئے گئے ہیں

۵

گلے شکوے جھوٹے بھی تھے کس مزے کےہم الزام دانستہ کھائے گئے ہیں

۶

نگہ کو جگر زلف کو دل دیا ہےیہ دونوں ٹھکانے لگائے گئے ہیں

۷

رہے چپ نہ ہم بھی دم عرض مطلبوہ اک اک کی سو سو سنائے گئے ہیں

۸

فرشتے بھی دیکھیں تو کھل جائیں آنکھیںبشر کو وہ جلوے دکھائے گئے ہیں

۹

چلو حضرت داغؔ کی سیر دیکھیںوہاں آج بھی وہ بلائے گئے ہیں

۸۴ / ۱۷۹