کلامِ داغردیف ن

صاف کب امتحان لیتے ہیں

۱

صاف کب امتحان لیتے ہیںوہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں

۲

یوں ہے منظور خانہ ویرانیمول میرا مکان لیتے ہیں

۳

تم تغافل کرو رقیبوں سےجاننے والے جان لیتے ہیں

۴

پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجےنامہ بر سے زبان لیتے ہیں

۵

اب بھی گر پڑ کے ضعف سے نالےساتواں آسمان لیتے ہیں

۶

تیرے خنجر سے بھی تو اے قاتلنوک کی نوجوان لیتے ہیں

۷

اپنے بسمل کا سر ہے زانو پرکس محبت سے جان لیتے ہیں

۸

یہ سنا ہے مرے لیے تلواراک مرے مہربان لیتے ہیں

۹

یہ نہ کہہ ہم سے تیرے منہ میں خاکاس میں تیری زبان لیتے ہیں

۱۰

کون جاتا ہے اس گلی میں جسےدور سے پاسبان لیتے ہیں

۱۱

منزل شوق طے نہیں ہوتیٹھیکیاں ناتوان لیتے ہیں

۱۲

کر گزرتے ہیں ہو بری کہ بھلیدل میں جو کچھ وہ ٹھان لیتے ہیں

۱۳

وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سےبیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں

۱۴

ضد ہر اک بات پر نہیں اچھیدوست کی دوست مان لیتے ہیں

۱۵

مستعد ہو کے یہ کہو تو سہیآئیے امتحان لیتے ہیں

۱۶

داغؔ بھی ہے عجیب سحر بیاںبات جس کی وہ مان لیتے ہیں

۸۶ / ۱۷۹