کلامِ داغردیف ن
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیںہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں
میرا دل گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتاوہ اپنا دہن اپنی کمر دیکھ رہے ہیں
کوئی تو نکل آئے گا سر باز محبتدل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں
ہے مجمع اغیار کہ ہنگامۂ محشرکیا سیر مرے دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں
اب اے نگہ شوق نہ رہ جائے تمنااس وقت ادھر سے وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامتہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں
آمد ہے کسی کی کہ گیا کوئی ادھر سےکیوں سب طرف راہ گزر دیکھ رہے ہیں
تکرار تجلی نے ترے جلوے میں کیوں کیحیرت زدہ سب اہل نظر دیکھ رہے ہیں
نیرنگ ہے ایک ایک ترا دید کے قابلہم اے فلک شعبدہ گر دیکھ رہے ہیں
کب تک ہے تمہارا سخن تلخ گوارااس زہر میں کتنا ہے اثر دیکھ رہے ہیں
کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپناکچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں
اب تک تو جو قسمت نے دکھایا وہی دیکھاآئندہ ہو کیا نفع و ضرر دیکھ رہے ہیں
پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبتاب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں
کیوں کفر ہے دیدار صنم حضرت واعظاللہ دکھاتا ہے بشر دیکھ رہے ہیں
خط غیر کا پڑھتے تھے جو ٹوکا تو وہ بولےاخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں
پڑھ پڑھ کے وہ دم کرتے ہیں کچھ ہاتھ پر اپنےہنس ہنس کے مرے زخم جگر دیکھ رہے ہیں
میں داغؔ ہوں مرتا ہوں ادھر دیکھیے مجھ کومنہ پھیر کے یہ آپ کدھر دیکھ رہے ہیں
۸۷ / ۱۷۹