مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں
مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیںبھلا کیا اعتبار تو نے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
About this couplet
This is couplet 1 of 6 in “مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۱ / ۶