کلامِ داغردیف ن
مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیں
۱
مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیںبھلا کیا اعتبار تو نے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
۲
جو کیفیت دیکھنی ہے زاہد تو چل کے تو دیکھ میکدے میںبہک بہک کر مزے مزے کی سنائیں گے بادہ خوار باتیں
۳
فسانۂ درد و غم سنایا تو بولے وہ جھوٹ بولتا ہےسنی ہوئی ہے بہت کہانی نہ ہم سے ایسی بگھار باتیں
۴
ابھی سے ہے کچھ اداس قاصد ابھی سے ہے بد حواس قاصدسنبھل سنبھل کر سمجھ سمجھ کر کرے گا کیا بے قرار باتیں
۵
تمہاری تحریر میں ہے پہلو تمہاری تقریر میں ہے جادوپھنسے نہ کس طرح دل ہمارا جہاں ہوں یہ پیچ دار باتیں
۶
بری بلا ہے یہ داغؔ پر فن تم اس کو ہرگز نہ منہ لگاناوگرنہ ڈھب پر لگا ہی لے گا سنیں اگر اس کی چار باتیں
۹۵ / ۱۷۹