کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں

کسی کا دل تو کیا شیشہ نہ ٹوٹا بادہ خواروں میںیہ توبہ ٹوٹ کر کیوں جا ملی پرہیزگاروں میں

About this couplet

This is couplet 2 of 7 in “⁨کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۲ / ۷