کلامِ داغردیف ن
کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں
۱
کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میںستم گاروں میں عیاروں میں دل داروں میں یاروں میں
۲
کسی کا دل تو کیا شیشہ نہ ٹوٹا بادہ خواروں میںیہ توبہ ٹوٹ کر کیوں جا ملی پرہیزگاروں میں
۳
کہاں ہے دختر رز اے محتسب ہم بادہ خواروں میںترے ڈر سے وہ کافر جا چھپی پرہیزگاروں میں
۴
کوئی غنچہ دہن ہنس کر ہمیں اب کیا ہنسائے گابہاریں ہم نے لوٹی ہیں بہت اگلی بہاروں میں
۵
انہیں لوگوں کے آنے سے تو میخانے کی عظمت ہےقدم لو شیخ کے تشریف لائے بادہ خواروں میں
۶
وہ کترا کر چلے ہیں میکدے سے حضرت زاہدبڑے مرشد ہیں ہاتھوں ہاتھ لانا ان کو یاروں میں
۷
پڑا رویا کرے وہ داغؔ بیکس اس طرح تنہاکہ جس کی رات دن ہنس بول کر گزری ہو یاروں میں
۱۰۱ / ۱۷۹