کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں
کوئی غنچہ دہن ہنس کر ہمیں اب کیا ہنسائے گابہاریں ہم نے لوٹی ہیں بہت اگلی بہاروں میں
About this couplet
This is couplet 4 of 7 in “کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۴ / ۷