کلامِ داغردیف ن
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میں
۱
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میںان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں
۲
کیا جانیں کیا سکھائیں گے ان کو صلاح کارہر روز گفتگو ہے نئی میرے باب میں
۳
پیر مغاں کی دل شکنی کا رہا خیالداخل ہوا ہوں توبہ سے پہلے ثواب میں
۴
رکھنا قدم تصور جاناں سنبھال کرکائی ہے جا بہ جا مری چشم پر آب میں
۵
اے شیخ جو بتائے مے عشق کو حرامایسے کے دو لگائے بھگو کر شراب میں
۶
اے داغؔ کوئی مجھ سا نہ ہوگا گناہ گارہے معصیت سے میری جہنم عذاب میں
۱۰۲ / ۱۷۹