کلامِ داغردیف پ

مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ

۱

مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ

۲

دم رخصت یہ چھیڑ تو دیکھومجھ سے کہتے ہیں کب ملیں گے آپ

۳

آپ کیوں خاک میں ملاتے ہیںہم مصیبت طلب ملیں گے آپ

۴

کارواں کی تلاش کیا اے دلآ کے منزل پہ سب ملیں گے آپ

۵

ایک تو وعدہ اور اس پہ قسمیہ یقیں ہے کہ اب ملیں گے آپ

۶

داغؔ اک آدمی ہے گرما گرمخوش بہت ہوں گے جب ملیں گے آپ

۳۹ / ۱۷۹