کلامِ داغردیف ت
عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہت
۱
عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہتدل سلامت ہے تو حسرت بہت ارمان بہت
۲
کاش دو چار ہزاروں میں تو ہوں کافر عشقہم نے کعبے میں بھی دیکھے نہ مسلمان بہت
۳
سر اٹھاتا نہیں تو شرم جفا سے ظالمیا کیے ہیں کسی کم بخت نے احسان بہت
۴
تم کہ بیداد کرو اور نہ شرماؤ ذراہم کہ نا کردہ گنہ اور پشیمان بہت
۵
حسرتیں روز نئی دل میں بھری جاتی ہیںتھوڑے تھوڑے بھی ہوئے جاتے ہیں مہمان بہت
۶
سوچیے دل میں تو ہے عشق نہایت دشوارنہ سمجھئے تو یہی کام ہے آسان بہت
۷
بزم احباب میں اے داغؔ کبھی تو ہنس بولدیکھتے ہیں تجھے ہر وقت پریشان بہت
۴۰ / ۱۷۹